ایف بی آر کا بڑے ایکسپورٹرز کی قابلِ ٹیکس آمدن میں کمی پر اسکروٹنی کا فیصلہ، ٹیکس گوشواروں کی جانچ کا حکم
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بڑے برآمدکنندگان کی قابلِ ٹیکس آمدن میں نمایاں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ٹیکس گوشواروں کی اسکروٹنی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ ایکسپورٹرز کے ٹیکس گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس نظام میں حالیہ تبدیلی کے بعد متعدد برآمدکنندگان نے اپنی قابلِ ٹیکس آمدن کم ظاہر کی ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 154 میں ترمیم کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت فنانس ایکٹ کے ذریعے برآمدی آمدن پر فائنل ٹیکس کے بجائے کم از کم ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بڑے برآمدکنندگان کی آمدن میں اچانک کمی غیر معمولی ہے، جس پر وضاحت ضروری ہے۔ بغیر جواز آمدن کم ظاہر کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے برآمدکنندگان اسکروٹنی کی فہرست میں شامل ہیں۔ ادارے نے بڑے شہروں سے تیس، بیس اور دس بڑے ایکسپورٹرز کی نشاندہی کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کا ردعمل
دوسری جانب پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے ایف بی آر کے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔ خط کی نقول وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
ریٹیل بزنس کونسل کا کہنا ہے کہ نئی اسکروٹنی ہدایات سے برآمدی شعبے میں بے چینی پھیل رہی ہے اور ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد اضافی نگرانی کاروباری اعتماد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
کونسل کے مطابق مہنگی بجلی، بلند شرح سود اور دیگر معاشی دباؤ کے بعد سخت ٹیکس نگرانی برآمدات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ موجودہ اقدامات سے برآمدی سرگرمیاں تجارتی طور پر ناقابلِ عمل ہو رہی ہیں اور کئی برآمدکنندگان کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ برآمدی شعبے میں غیریقینی صورتحال سے نہ صرف ریونیو اہداف بلکہ مجموعی معاشی استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے وزیراعظم سے فوری مداخلت، واضح پالیسی گائیڈ لائنز اور برآمدکنندگان کے لیے معاون ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
