’’میں آج بہت تکلیف میں ہوں‘‘، عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی وجہ بتا دی
اسلام آباد: سینئر نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ اپنی 45 سالہ وابستگی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ میڈیا حلقوں اور ان کے مداحوں کے لیے جذباتی لمحہ ثابت ہوا، کیونکہ عشرت فاطمہ کا نام دہائیوں تک پاکستان میں معتبر اور سنجیدہ نیوز ریڈنگ کی علامت رہا ہے۔
عشرت فاطمہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے آخری خبرنامے کی ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے سامعین سے رخصت لیتے ہوئے کہا کہ وہ ریڈیو پاکستان اور اپنے مداحوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہیں۔
بعدازاں 13 منٹ طویل ویڈیو پیغام میں عشرت فاطمہ نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان چھوڑنا ان کے لیے انتہائی مشکل فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور کئی سال تک حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کیا، مگر بالآخر انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔
عشرت فاطمہ نے شکوہ کیا کہ انہیں بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی، حالانکہ ان کی آواز، تلفظ اور کام کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوز ریڈنگ ان کے لیے محض پیشہ نہیں بلکہ جذبہ اور جنون رہا ہے، اور وہ ہمیشہ اپنے کام سے مخلص رہی ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ وہ مکمل طور پر منظر سے غائب نہیں ہوں گی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی، اپنی یادیں اور تجربات شیئر کرتی رہیں گی۔
واضح رہے کہ عشرت فاطمہ کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پاکستان اور تمغۂ امتیاز جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کا کیریئر ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’کھیل اور کھلاڑی‘ سے شروع ہوا اور وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے رات نو بجے کے معروف اردو خبرنامے کی اینکر بھی رہ چکی ہیں۔
