شادی کرنے کیلئے بہترین عمر کیا ہے؟ نئی عالمی تحقیق نے چونکا دینے والے نتائج بتا دیے

اگر کوئی آپ سے سوال کرے کہ شادی کرنے کی بہترین عمر کیا ہے تو اس کا سادہ جواب دینا آسان نہیں، کیونکہ ہر انسان کے حالات، ترجیحات اور زندگی کے فیصلے مختلف ہوتے ہیں۔ تاہم، دماغی صحت کے حوالے سے کی گئی ایک نئی تحقیق نے اس سوال پر اہم روشنی ڈالی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی زیورخ یونیورسٹی کی ایک جامع تحقیق میں 17 ہزار سے زائد نوجوان افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ ڈیٹا تین مختلف تحقیقی رپورٹس پر مشتمل تھا، جن میں شرکاء کی عمر تحقیق کے آغاز پر 16 سال تھی اور ان کی دماغی صحت کا جائزہ تقریباً 30 سال کی عمر تک لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق کم عمری میں کنوارا ہونا دماغی صحت پر منفی اثر نہیں ڈالتا۔ 16 اور 17 سال کی عمر میں تنہا افراد کی ذہنی کیفیت بہتر اور خوشی کا احساس زیادہ پایا گیا۔

18 سال کی عمر میں زندگی سے اطمینان میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم یہ کوئی نمایاں تبدیلی نہیں تھی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 19 سال کی عمر کے بعد تنہائی کا احساس بتدریج بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، جو ہر گزرتے سال کے ساتھ شدت اختیار کرتا ہے۔ اگر اس دوران شادی نہ ہو تو 24 سال کے بعد دماغی صحت میں تنزلی کا عمل تیز اور واضح ہو جاتا ہے۔

محققین کے مطابق اس عمر کے بعد تنہائی میں نمایاں اضافہ، زندگی سے اطمینان میں مسلسل کمی اور ڈپریشن کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اگرچہ شروع میں ڈپریشن کی علامات شدید نہیں ہوتیں، تاہم وقت کے ساتھ جذباتی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 29 سال کی عمر میں تنہائی کا احساس اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے جبکہ ڈپریشن کی علامات میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو دماغی صحت کے تناظر میں 26 سے 27 سال کی عمر کو موزوں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس عمر کے بعد تنہائی اور ذہنی دباؤ کے امکانات تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

یہ تحقیق جرنل آف پرسنالٹی اینڈ سوشل سائیکولوجی میں شائع ہوئی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ نتائج شادی اور ذہنی صحت کے تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔