جی 7 ممالک کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے اشارے، عالمی منڈی میں تیل 119 سے کم ہوکر 97 ڈالر فی بیرل
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ Strait of Hormuz کی بندش اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے خدشات کے باعث ایک ہی دن میں قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم بعد ازاں Group of Seven (جی 7) ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے اشاروں کے بعد قیمتوں میں کمی شروع ہوگئی۔
پیر کے روز کاروبار کے دوران برطانوی خام تیل Brent crude oil کی قیمت 21.25 ڈالر اضافے کے بعد 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل West Texas Intermediate crude oil (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی تقریباً 21 ڈالر اضافے کے ساتھ 119.48 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
رپورٹس کے مطابق کورونا وبا کے بعد پہلی بار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
دوسری جانب قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے جی 7 ممالک متحرک ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے France کی زیر صدارت جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں تیل کے ہنگامی ذخائر کے استعمال کی تجویز پر غور کیا گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات استعمال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اجلاس میں International Energy Agency (آئی ای اے) کے سربراہ نے بتایا کہ رکن ممالک کے پاس اس وقت ہنگامی استعمال کے لیے 1.2 ارب بیرل سے زائد سرکاری تیل ذخائر موجود ہیں جبکہ اس کے علاوہ تقریباً 600 ملین بیرل صنعتی ذخائر بھی حکومتوں کی نگرانی میں ہیں۔
اس سے قبل ایسے ذخائر کا استعمال Russian invasion of Ukraine کے بعد عالمی منڈی کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا تھا۔
جی 7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے اشاروں کے بعد عالمی منڈی میں قیمتوں میں دوبارہ کمی دیکھنے میں آئی۔ برینٹ خام تیل جو 119.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا وہ کم ہو کر تقریباً 98.69 ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی کم ہو کر تقریباً 95.65 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تاجروں کو خلیج فارس سے تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز تقریباً ایک ہفتے سے بند ہے۔ عام حالات میں دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس روزانہ اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
