ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی تو پہلے سے زیادہ شدید حملے کریں گے: امریکی وزیر جنگ

امریکا کے وزیر دفاع Pete Hegseth نے خبردار کیا ہے کہ اگر Iran نے Strait of Hormuz میں تیل کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی تو امریکا ایران پر پہلے سے زیادہ شدید حملے کرے گا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور امریکی جنرل Dan Caine نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت بوکھلاہٹ اور مایوسی کا شکار ہے اور وہ اسکولوں اور اسپتالوں جیسے مقامات سے میزائل فائر کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت تنہا کھڑا ہے اور جنگ میں بری طرح نقصان اٹھا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی افواج کے بنیادی اہداف میں ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی صنعتی مراکز کو تباہ کرنا شامل ہے جبکہ ایرانی بحریہ کو کمزور کرنا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج کا دن ایران کے خلاف شدید حملوں کے حوالے سے اہم ہوگا۔ ان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے میزائل فائرنگ کی تعداد کم رہی ہے۔

پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں عالمی تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف پہلے سے زیادہ سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی فوج ان ایرانی جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے ابتدائی دس روز کے دوران ایرانی بحریہ کے 50 سے زائد جہاز تباہ یا ڈبو دیے گئے ہیں۔

جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ ایران مزاحمت کر رہا ہے لیکن اس شدت سے نہیں لڑ رہا جتنی توقع کی جا رہی تھی۔