اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

اسپین کی حکومت نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے جس کی تصدیق بدھ کو شائع ہونے والے سرکاری گزٹ میں کی گئی۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسپین کی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں اسپین کا سفارت خانہ اب ناظم الامور کی سربراہی میں کام کرے گا۔

اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات 1986 میں قائم ہوئے تھے تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں وقتاً فوقتاً کشیدگی دیکھنے میں آتی رہی ہے۔ اسپین نے غزہ جنگ سمیت ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔

گزشتہ روز اسپین کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کی مخالفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اسپین اور امریکا کے تعلقات معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔

دوسری جانب اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی تھی۔ حکومت نے امریکی طیاروں کو جنوبی اسپین میں واقع مشترکہ فوجی اڈوں کو ایران کے

خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا تھا۔