پاکستان میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی، تیز رفتار 5G انٹرنیٹ کی راہ ہموار

پاکستان میں تیز ترین موبائل انٹرنیٹ کی فراہمی کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کر دی گئی ہے، جس سے مستقبل میں 5G انٹرنیٹ سروسز متعارف کرانے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔

نیلامی کے عمل میں ملک کی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے حصہ لیا اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں تیز رفتار اور زیادہ مستحکم انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے۔

صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟

اس نیلامی کے بعد موبائل کمپنیوں کے پاس وہ ڈیجیٹل فریکوئنسی بینڈز یا اسپیکٹرم دستیاب ہوں گے جن پر 5G سگنلز چلائے جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں انٹرنیٹ کی رفتار کئی گنا بڑھنے کا امکان ہے جبکہ کال ڈراپ اور سست انٹرنیٹ جیسے مسائل میں بھی واضح کمی آسکتی ہے۔

کون سا بینڈ کس کام آئے گا؟

700 میگا ہرٹز بینڈ:

اس بینڈ کے تین میں سے دو لاٹس فروخت ہوئے ہیں۔ یہ بینڈ خاص طور پر دیواروں کے پار سگنل پہنچانے اور دور دراز علاقوں میں بہتر انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

2300 اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ:

ان دونوں بینڈز کے تمام دستیاب لاٹس فروخت ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں بڑے شہروں میں صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے اور ویڈیو اسٹریمنگ جیسی سروسز کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہیں۔

3500 میگا ہرٹز بینڈ:

اسے 5G کا گولڈن بینڈ کہا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بینڈ میں 28 لاٹس پیش کیے گئے تھے جن میں سے 22 فروخت ہو گئے۔ یہ بینڈ انتہائی تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اس نیلامی کے بعد پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، اسمارٹ سروسز اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔