پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تلخ کلامی، اندرونی کہانی سامنے آگئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شاہد خٹک اور سینیٹر زرقا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں خٹک نے زرقا پر الزام لگایا کہ “آپ نے پیسے لیے ہیں، آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟”۔
اس پر بیرسٹر علی ظفر برہم ہوگئے اور کہا کہ اگر ہمارے ارکان کی بے توقیری کی گئی تو وہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ دیگر ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹر بھی شاہد خٹک کے بیانات پر برہم ہوئے اور کہا کہ وہ حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر زرقا نے کہا کہ انہیں نوٹس دیا گیا جس کا جواب دے دیا، اگر مطمئن نہ ہوتے تو پارٹی سے نکال دیتے۔ بیرسٹر گوہر علی نے اجلاس کے دوران کہا، "ایک طرف ایران کی جنگ، دوسری طرف آپ کی جنگ جاری ہے۔"
جنید اکبر نے اجلاس میں کہا کہ یہ یوتھ پینل کے چند افراد ہیں جو وزیراعلیٰ کو چلا رہے ہیں، یہاں وکیل ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تین چار افراد ہی فیصلے کرتے ہیں اور کمیٹیوں کے معاملے میں کسی نے بانی پی ٹی آئی کا کندھا استعمال کیا۔
اجلاس کے اختتام پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش ہے اور تقریباً 100 ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی اور ایران کی صورتحال پر پہلے سے تیار قرارداد بھی اسمبلی میں پیش کرنے پر بات ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اجلاس میں تلخ کلامی یا تشویش کی بات زیادہ نہیں ہے، سب ہمارے ساتھی ہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے اور کچھ سنجیدہ نہیں ہے۔
