ہم ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران سے بھی کہتے ہیں وہ مسلم ممالک پر حملے نہ کرے: بیرسٹر گوہر
Barrister Gohar Ali Khan نے کہا ہے کہ Pakistan Tehreek-e-Insaf ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے تاہم ایران سے بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ مسلم ممالک کو نشانہ نہ بنائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی خطے کی صورتحال پر اپنا مؤقف واضح کر چکی ہے اور جو عناصر پاکستان کے دشمن ہیں انہیں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی Afghanistan سے کہا گیا تھا کہ وہ پراکسی جنگ کا حصہ نہ بنے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی نے بطور جماعت ایران سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مسلم ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ چند رہنماؤں کو بریفنگ دینے کے بجائے پورے ایوان کو اس معاملے پر اعتماد میں لے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے مطالبات کے باوجود خطے کی صورتحال پر اپنی پالیسی اسٹیٹمنٹ نہیں دی۔ ان کے مطابق افغانستان کے عوام کو بھی وقت دیا جانا چاہیے تھا تاکہ وہ مناسب طریقے سے پاکستان سے واپس جا سکیں۔
انہوں نے National Action Plan کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے 14 نکات پر من و عن عمل ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ صورتحال میں India افغانستان کے پیچھے کھڑا ہے اور قونصل خانوں کی آڑ میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔
پیٹرول کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس مناسب اسٹاک ہوتا تو ایسے حالات پیدا نہ ہوتے۔ انہوں نے حکومت کو اخراجات کم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی اور نیٹ میٹرنگ بھی ختم کر دی گئی ہے، اس لیے عوامی مشکلات کا خیال رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سب کی خواہش ہے کہ Imran Khan کی جلد رہائی ہو۔ ان کے مطابق اگر انصاف کے مطابق فیصلے ہوتے تو بانی پی ٹی آئی اب تک رہا ہو چکے ہوتے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہائی کورٹ سے متعدد بار رجوع کیا گیا مگر کیس کی سماعت نہیں ہو سکی جبکہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی عدالت کے باہر موجود ہوتی ہے اور وکلا کو بھی ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔
